کراچی کا 1967 کا مون سون غضب کی بارشوں سے لبریز تھا، جولائی کی تیسری دہائی میں جب بارش شروع ہوئی تو لوگوں نے اسے کراچی کی روایتی عمومی بارش سے تعبیر کیا تھا کہ آسمان کتنا ہی ٹوٹ کر برسے آسمان پر چھائی گہری بدلی جب چھٹنے پر آئیگی تو اسے دیر نہیں لگے گی، مگر اس سال بارش کے تیور کچھ اور تھے، قریباً پورا ہفتہ لگاتار مینہ برستا رہا، ا اتنی بارش ہوئی کہ شہر میں برسات سے متعلق اصطلاحات مروج ہونے لگیں، چرا پونجی آسام جیسے بارش کی ملکہ کہلاتے علاقوں کے نام روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بن گئے، اخبار بارش کی تباہ کاریوں کی خبروں، پیشینگوئیوں اور بارش سے متعلق کارٹونوں سے مزین رہنے لگے، گجراتی کے اخبار ملت میں کارٹون چھپا کہ ایک بحری جہاز ہے جو کیماڑی کے ساحل سے آگے بڑھ کر میونسپل کارپوریشن کی عمارت کے سامنے کھڑا ہے اور جہاز کا کپتان جہاز کی کھڑکی سے منہ نکالے حیرت سے میونسپل کارپوریشن کے ٹاور کو تک رہا ہے کہ روشنی کا یہ کونسا مینار ہے، یہ وہ دن تھے مسلسل بارش اور سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا رہنا معمول بن گیا کہ جتنی پانی کی نکاسی ہوتی اس سے ذیادہ برس جاتا، ایک ہفتے میں ۲۰ انچ کے لگ بھگ بارش ہوئی ہوگی کہ وہ قیامت خیز دن اور اسکے بعد کی رات آگئی جو کراچی پر برپا ہوئی قیامت خیز راتوں میں سے ایک تھی ۔

 

 

ترکِ محبت کر بیٹھے ہم، ضبط محبت اور بھی ہے
ایک قیامت بیت چکی ہے، ایک قیامت اور بھی ہے
ڈوبتا سوُرج دیکھ کے خوش ہو رہنا کس کو راس آیا
دن کا دکھ سہہ جانے والو، رات کی وحشت اور بھی ہے
(محسن نقوی)

ہفتہ بھر کی مسلسل بارش کے سبب شہر کے اکثر علاقوں میں ٹخنوں ٹخنوں اور نشیبی علاقوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی گویا معمولات میں شامل ہوگیا تھا، گو بارش روز کے معمولات میں شامل ہوگئی تھی مگر اسکا زور اتنا نہیں رہا تھا، شہری صورتحال کے خوگر ہوچلے تھے، معمولات زندگی اس غیر معمولی صورتحال میں بھی کسی نہ کسی طور جاری تھے، ایسے میں ۲۴ جولائی کو ایک بار پھر گرج چمک کے ساتھ بارش شروع ہوگئی، اتنی تیز بارش تھی کہ سڑکوں پر پہلے سے کھڑے پانی کے ساتھ نئے برستے پانی نے شہر کو ہنگامی صورتحال سے دوچار کردیا ، کراچی میونسپل کی عمارت کے سامنے کا حصہ، اسکے متوازی فرئیر روڈ کا سلیقہ سلائی مشین والا حصہ، اکھاڑہ بھولو پہلوان، اور جنرل پوسٹ آفس آئی آئی چندریگر روڈ، یہ شہر کے کمال نشیبی علاقے ہیں جہاں بہت ذیادہ پانی جمع ہوتا ہے، سب سے ذیادہ گاڑیاں بھی اسی علاقے میں جواب دے جاتی ہیں، ان علاقوں میں دیکھتے ہی دیکھتے بلا مبالغہ کھڑے ہوئے آدمی کی گردن تک پانی تھا، اس علاقے اور اسطرح کے دیگر نشیبی علاقوں میں اہل کراچی نے شاید پہلی مرتبہ کشتیاں چلتے دیکھیں اسلئے کہ جو لوگ گھروں سے نکلے تھے وہ جہاں گئے تھے یا سڑکوں پر تھے پھنس کر رہ گئے تھے جنکی بحفاظت واپسی کا مداوا تو کرنا تھا تو کہیں سے کوئی ناکارہ لائف بوٹ ہاتھ آئی یا محلے میں بیٹھے کاریگر زہن کے لوگوں نے تختے جوڑ کر کوئی سبیل نکال لی اور شہر کراچی میں کشتیاں رواں ہوگئیں، کراچی کے نوجوان جو اسطرح کی پرتفریح خدمت خلق میں مشتاق ہیں اس روز خوب سرگرم تھے، فلموں میں جس طرح ہیرو پورے محلے کی خدمت اور دادرسی میں متحرک رہتا ہے ایسے ہی ایک صاحب پاکستان چوک کے رہائشی مرحوم عبدالجبار جو عرف عام میں جبو بھائی کہلاتے تھے انہی اوصاف کے مالک تھے اس روز انہوں نے برستی بارش اور سیلابی ریلے کے درمیان محلے کے نوجوانوں کو متحرک کرکے خواتین اور بچوں کو جسطرح سے اپنی اپنی منزل پر پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیا ممکن ہے وہی انکی مغفرت کا سامان گیا ہو، اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے ۔

حیرت ہے اس کی زود روی کیا کہیں ہم آہ
نقش طلسم تھا وہ کوئی یا حباب تھا

( نظیر اکبر آبادی )

دن بھر کی بارش شام کو تھمی تو شہریوں نے سکون کا سانس لیا، جو کام پر نہیں جاسکے تھے وہ گھر پر ہی تھے، جو کام پر گئے تھے وہ جلد یا بدیر کام سے واپس آگئے تھے مگر ایک پل صراط سے گزر کر، پانی نے پورے شہر کوگویا حصار میں لے رکھا تھا، ایسے میں کوئی دو یا تین گھنٹے کے بعد موسلا دھار بارش دوبارہ سے شروع ہوگئی، لوگ اپنے اپنے گھروں میں تھے مگر سراسیمہ، اور بارش تھی کہ برسے چلی جارہی تھی، رات بھیگنے لگی تو لوگ بھی آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں جانے لگے، کسی کی آنکھ لگ گئی اور کوئی پہلو بدلتا رہا، رات بھیگتی رہی، شہر بارش سے بھیگتا رہا، بارش نہ تھمی تو نہ تھمی، رات کے پچھلے پہر ہوا کے دوش پر آتی اذانوں کی آوازوں نے جاگتوں کی توجہ مبذول کروائی اور سوتوں کو نیند سے بیدار کردیا، اب ہر شخص سراسیمہ تھا، پریشان تھا ۔ کھڑکیوں دروازوں سے پانی رس کر گھروں کے اندر آرہا تھا، چھتیں ٹپک رہی تھیں، راستے ندی نالے کا منظر پیش کرہے تھے، کچے مکانات ٹوٹنے پھوٹنے اور بہنے کے مراحل سے گزرنا شروع ہوگئے تھے، قیامت صغرٰی کا منظر واقعی پیش نظر تھا ۔

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
( قتیل شفائی )

دوسرا ستم یہ ہوا کہ شہر میں بہنے والی دونوں ندیوں یعنی ملیر ندی اور لیاری ندی کو مسلسل برستی موسلا دھار بارش نے لبریز کردیا تھا، یوں تو ہفتے بھر کی بارش نے بہتی ندی کے نغمے کو چنگھاڑ میں تبدیل کردیا تھا مگر اس دن رات کی مسلسل بارش نے سیلابی ریلوں کو ہوا دیدی کہ وہ ندی سے باہر نکل کر چہل قدمی کریں، رات کے پچھلے پہر دونوں ندیاں چھلک کر ابلنے لگیں، لیاری ندی میں طغیانی کی کی شدت ذیادہ تھی جہاں پشتوں کے اوپر سے بہتے پانی سے کوئی پشتہ اپنی جگہ سے سرک گیا، اب لیاری کا علاقہ سیلابی ریلے کی زد میں تھا اور ندی سے نزدیک تر بہار کالونی تواس ریلے کی براہ راست زد میں تھی، رات کا پچھلا پہر تھا، بہار کالونی کے مکین بارش کے سبب گھر میں دبک کر بیٹھے تھے یا پھر سورہے تھے کہ آن کی آن میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونا شروع ہوگیا، اس زمانے میں ذیادہ تر زمین کے مکانات تھے بالائی منزل کا تصور نہ تھا، کچھ ہی دیر میں گھر زیر آب آچُکے تھے اور لوگ پناہ کے لئے بھاگم بھاگ چھتوں کو دوڑ رہے تھے ۔ وہ رات لوگوں نے مکان کی چھتوں پر گزاری ۔ یہی وہ وقت تھا جب بہار کالونی سے اذانوں کی صدائیں بلند ہوئیں اور پھر شہر کا ہر علاقہ رحمت خداوندی کے حضور سرتاپا سوالی بن گیا کہ یا اللہ رحم، اذانیں اس رات پورے شہر ہی میں دی گئیں ۔ مایوسی اور خوف دامن گیر ہوجائے اور انسان اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگے تو پھر ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ وہ اپنے رب کوپکارے ، سو لوگ اپنے پروردگار کو اذانیں دیکر پکار رہے تھے ۔

مصیبت کی اس گھڑی میں حکومت غافل نہیں تھی، مناسب انتظامات کے تحت آرمی اور نیوی سیلاب زدگان کی داد رسی کے کئے متحرک ہوگئی تھی جنکا آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا، نیوی کی بوٹس کے زریعے ریلیف آپریشن نے سیلاب میں گھرے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ساتھ ہی کراچی کے ماہی گیر بھی سرگرم ہوئے اور موٹر بوٹس کے زریعے آپریشن میں حصہ لیکر نہ صرف یہ کہ نیوی کی بھرپور معاونت کی بلکہ علاقہ اور علاقہ کی کمزوریوں سے واقفیت کی بنا پر آپریشن ذیادہ حسن خوبی سے انجام دیا، اور مصیبت کی گھڑیوں میں اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں حکومت کے شانہ سے شانہ ملا کر جو کارنامہ انجام دیا وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے ۔ لیاری ندی اور ملیر ندی کے ۲۰۰۰۰ سے زائد پھنسے ہوئے شہریوں کو بحفاظت نکالا گیا، شہری حکومت اور محکمہ پولیس ساتھ ساتھ محرک تھے اور ریلیف کیمپ کے زریعے مصیبت زدگان کی بھرپور دار رسی کے لئے ایک مربوط آپریشن کو کامیابی سے سر انجام دے رہے تھے، یہ آپریشن مکمل کامیابی تک لیاری اور اعظم بستی کے علاقوں میں جاری رہا ۔

بہار کالونی والے رات چھت پر گزار کر دوسرے دن کسی طرح علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات پر رشتہ داروں کے گھر منتقل ہونے لگے، بہار کالونی سے متصل کوئلہ گودام کا کوئلہ بہہ نکلا تھا جسکا الگ منظر تھا، بعد میں واپس آئے مکینوں کو برباد سامان اور خستہ حال مکان کے صدمے نے پریشان کردیا مگر بہے چلے آرہے اور مکان میں براجمان کوئلے نے انکی ایندھن کی ضرورت ضرور پوری کی، کبھی پانی آگ اور آگ پانی بن جاتا ہے کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔

Written by: Iqbal A Rehman

کراچی کا 1967 کا مون سون غضب کی بارشوں سے لبریز تھا
5 (100%) 1 vote

Posted by PakWeather.com

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *