کائنات کے فصیح و بلیغ سمندر میں ہماری کہکشاں ہی اس اہلیت کی حامل ہے کہ جہاں زندگی کے رنگ ہماری آنکھوں کو سماتے ہیں اور یہاں ہر طرح کی سرگرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے-

‘بگ بینگ’ کے حادثے کے بعد سے ہی خلا میں چہل پہل جاری رہی ہے-بگ بینگ کے بعد جب ہزاروں سال کے عوامل سے گزر کر ہماری زمین تشکیل پائی تو یہ کافی گرم ہونے کے سبب جانداروں کی رہائش اور افزائش کے لیے قطعا قبل نہیں تھی- لیکن رفتہ رفتہ طویل عرصے کے ارتقائی سفرکو عبور کرنے کے بعد زمین پر بائیو کیمیائی تبدیلیاں شروع ہویئں جن سے سب سے پہلے آبی حیات کو زندگی ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے خشکی میں بھی جاندار پھلنے پھولنے لگے-

لیکن ان جانداروں کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں مائکرو اورگنسم بھی جنم لے رہے تھے جو رفتہ رفتہ عام زندگی کا حصّہ بنتے گئے اور ہمارے مدافیتی نظام  میں شامل ہو گئے کچھ تو بے ضرر ثابت ہے مگر چند ایسے بھی تھے جنھوں نے حیوانیت کی بقا کو ہی خطرے میں ڈال دیا تھا- مگر کرہ ارض کے عظیم توازن  برقرار رکھنے کے لیے قدرت کا مایا ناز شاہکار ہمارے سامنے آتا ہے جوہمیں حیران ہونے پر مجبور دیتا ہے کہ کروڑوں سالوں سے یہ برگستوان چمن ہماری ڈھال بن کر پر اسرار طور پر ہماری حفاظت کرتا آیا ہے جسکا ہمیں گمان تک نہیں


مگر یہاں یہ مقولہ صادق آتا ہے کہ “گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے”، ہم نے ہی اپنی زمین کو زہر آلود کرنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی، جہاں روزانہ
ایندھن کا بیجا استعمال ہزارہاں موٹر گاڑیوں اور بحری و فضایی جہازوں سے ماحول دشمن گیس خارج ہونے کا سبب بن رہا ہے وہیں صنعت کاری اور کیمیائی ہتھیاروں کے استمعال سے گرین گسیس کا اخراج بھی کیی صدیوں کے برعکس کافی حد تک بڑھ چکا ہے – ہماری تیز رفت ماحولیاتی آلودگی سے نہ صرف طرح طرح کے خفیف مسائل درپیش ہیں بلکہ اس کے اثرات ہمارے موسم پر بھی بری طرح مرتب ہو رہے ہیں-


ماحولیاتی آلودگی کے باعث فضا میں بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیس کا اخراج گولوبل وارمنگ کا سبب بن رہا ہے، گزشتہ صدیوں کی نسبت موجودہ اکیسوی صدی میں یہ معاملہ شدّت اختیار کر چکا ہے جس کی لرزہ خیز مثال ہمارے سامنے آتی ہے جس میں دنیا میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور اس کے پیش نظر موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر انداز ہونا، جس میں اس خطّے میں مشرقی و مغربی برکھا (Monsoon and Western Disturbance) کی اوقات، سمت، شدّت اور پھیلاؤ میں حد سے زیادہ تغیر محسوس کیا جا سکتا ہے-


ماضی میں قدرت نے زمین کا متوازن برقرار رکھنے کے لیے بہت سے جاندار دشمن وائرسز، بیکٹیریا اور کیمیکلز کو اپنے سینے میں منجمد حالت میں چھپا لیا تھا، لیکن آج حضرت انسان کی خود روش نے اسکو اس کغار پے لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ بڑھتے ہے درجہ حرارت نے شمالی و جنوبی قطب پر منجمد برف کو بہت تیز رفتار سے پگھلانا شروع کر دیا ہے- اس پگھلتی ہوئی برف سے آج پھر کرہ ارض کی پر رنگ رونقوں پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں کہ اس برف میں موجود ہزاروں سال سے قید پانچ کروڑ لیٹرسے زاید جان لیوا وائرس اور مائع دھات پارا پھر سے ماحول میں شامل ہو رہے ہیںان وائرس میں ایبولا اور ذک وائرس زیر ذکر ہیں-

پارے کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہ بخارات میں تبدیل ہو اکر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے، اسے مٹی میں بھی با آسانی پایا جا سکتا ہے حتیٰ کے پانی اور دیگر مائع جات میں بھی تحلیل ہو جاتا ہے غرض یہ کہ ہر اطوار سے یہ نہ صرف انسانی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے اور انکے اندرونی فِعل کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ دیگر جانوروں اور خصوصاً مچھلیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے- ہم جو جانور کھاتے ہیں پارا انکے جسموں میں جمع ہو جاتا ہے اور ہماری خوراک بننے پر ہمارے لیے وبال جان بن جاتا ہے، بلکل اسی طرح وائرس بھی ایک سے دوسرے جاندار می منتقل ہوتے ہیں جسکی مثال گزشتہ سال افریقہ میں بندروں کی ایک نسل سے انسانوں میں ایبولا وائرس کی منتقلی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے

ماہرین کی آرا میں اگر کسی طرح اس بڑھتے ہوے درجہ حرارت کے رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو یہ یہ دنیا کی تاریخ کا سیاہ کن قدم ہوگا، اندا لگایا گیا ہے کہ اگر اسی رفتار سے گلوبل وارمنگ  بڑھتی رہی تو ٢١٠٠ (2100) عیسوی تک دنیا کی %55 – %40 تک برف پگھل جائے گی اور اس کی وجہ سے کروڑوں نا قبل تشخیص وائرس، بیکٹیریا اور دیگر دھات بل عموم پارا بیکت وقت حملہ آور ہونگے اور انسانی و حیوانی حیات بری طرح درہم برہم ہو جائے گی,

لہذا آج سے ہم مسمم عہد کرتے ہیں کہ سنّت نبوی (صلى الله عليه وعلى آله وسلم) پر عمل پیرا ہو کر شجر کاری کو فروغ دیںگے، اور فضایی و زمینی آلودگی پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کریںگے، مزید یہ کہ ایندھن کے بے جا استمال سے گریز کرینگےاور اپنے ماحول کو محفوظ، خوشحال اور حیوان دوست بنائینگے، انشا الله.

This Article was written By Saqib Haider.

دنیا کے سمندروں میں زہریلا پارا/مرکری شامل ہورہا ہے۔۔؟انسانی زندگی اس سے شدید متاثر ہوگی۔۔؟
5 (100%) 3 votes
Mohammad Faizan

Posted by Mohammad Faizan

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *