Rotation of Earth in the light of Quran and Hadith (Urdu) - زمین کی گردش

 







 یہ تحقیقی معارف قرآن کریم، احادیث، اصحاب، تابعین اور جیّد علماء کی تفاسیر اور عقلی دلائل کا مجموعہ ہے جس کا مقصد عوام الناس میں آگاہی کو عام کرنا ہے- اس کا مقصد ہرگز کسی فرد یا طبقے کی ہتک آمیزی نہیں بلکہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ علمی اختلاف رکھے اور اپنی بات دلائل کے ساتھ پیش کرے 


القرآن: "اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔" الانفال، 2 ⭐


 اسلام نہ صرف ایک مکمّل ضابطہ حیات ہے بلکہ یہ ایک مکمّل دین ہے کہ اس کے ہر گوشے میں حکمت پوشیدہ ہے جبکہ سائنس وہ علم ہے جو انسان نے الله کی قدرت کو جان پرکھ کر حاصل کیا- تاریخ گواہ رہی ہے کہ اسلام نے وہ سائنسی حقائق پیش کیے جو رہتی دنیا تک واضح ہیں اور آج کے دور میں درست ثابت ہو رہے ہیں- دیگر مذاہب اور سائنس کے درمیان تضاد رہا ہے لیکن اسلام خود سائنس کی تائید کرتا ہے جسکا پیش خیمہ یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز ہی لفظ "اقرا" سے شروع ہوا، آنحضرت ص نے علم کا حصول فرض قرار دیا جبکہ الله نے واضح کردیا کہ اگر نہیں جانتے تو جاننے والوں سے دریافت کرو- ارشاد ربّانی ہے کہ؛ "کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں" سورة الزمر، آیت 9 

سوره انبیا کی آیت شمار 13 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَهُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ؕ كُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ‏ 
ترجمہ:۔ "اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا یہ سب (فلکی اجسام) اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔"

اسی طرح سوره یٰسین کی آیت شمار 40 میں تنزیل ہے کہ
لَا الشَّمۡسُ يَنۡۢبَغِىۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ‌ؕ وَكُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ‏ 
ترجمہ: "نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں"

یہاں یہ بات زیر غور رہے کے دونوں آیات میں کے آخر میں كُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ‏ درج ہے؛ اس میں سب سے پہلے تو لفظ " كُلٌّ" پر غور لازم ہے کیونکہ عربی اصطلاح میں یہ لفظ دو کی جمع کے لیے استمعال نہیں ہوتا بلکہ دو سے زائد کی جمع کے لیے استمال ہوتا ہے- غرض اپنے اپنے مدار میں گھومنے کے مصداق میں صرف چاند اور سورج شامل نہیں بلکہ دیگر تمام افلاکی اجسام (celestial bodies) بشمول زمین بھی شامل ہیں-

اس آیت میں سورج اور چاند کے الگ الگ مدار کا تذکرہ ہے لیکن یہ کہیں نہیں کہ ان کا مدار متوازی ہے۔ غور فرمائیے کہ مذکورہ بالا آیت میں عربی لفظ یَسْبَحُوْن استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظ بذات خود سے نکلا ہے۔ جس کے ساتھ ایک ایسی حرکت کا تصور وابستہ ہے جو کسی جسم کے متحرک ہونے سے پیدا ہوئی ہو۔ اگر آپ یہ لفظ زمین پر کسی شخص کے لئے استعمال کریں گے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ لڑک رہا ہے۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہو گی کہ وہ شخص دوڑ رہا ہے یا چل رہا ہے۔ اگر یہ لفظ پانی میں کسی شخص کیلئے استعمال کیا جائے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ (پانی پر) تیر(float) رہا کہ بلکہ اس سے مراد ہوگی کہ وہ شخص پانی میں تیراکی کر رہا ہے۔ اسی طرح جب آ پ یہ لفظ سَبَحَا کسی آسمانی جسم (جرم فلکی ) سورج کیلئے استعمال کریں گے تو اسکا مطلب صرف یہ نہیں ہو گا کہ وہ جسم خلا میں حرکت کر رہا ہے، بلکہ اسکا پورا مطلب یہ ہوگاکہ کوئی ایسا جسم جو خلا میں حرکت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے محور(axis) پر بھی گھوم رہا ہے۔ یعنی دو قسم کی حرکت اس میں پائی جاتی ہے ایک خود کا گھومنا (spin motion) اور دوسرا اپنے مقررہ مدار میں گھومنا (orbital motion)

امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اورامام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے : الفلک الذی بين السماء و الأرض من مجاری النجوم و الشمس و القمر. ’’فلک،، سے مراد آسمان اور زمین کے درمیان واقع مدار ہیں، جن میں تمام ستارے، سورج اور چاند (سمیت تمام اجرام فلکی) گردش کرتے ہیں۔ (تفسير الدرالمنثور، 4 : 318) اس امر کی وضاحت اس قول سے بھی ہوتی ہے : الفلک موج مکفوف تجري فيه الشمس و القمر و النجوم. ’’فلک،، آسمانوں کے نیچے خلا کا نام ہے جس میں سورج، چانداور ستارے گردش کرتے ہیں۔ (تفسير کبير، 22 : 167) امام رازی رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مزید بیان کیا ہے کہ فلک ستاروں کے مدار یعنی ان کی گردش کے راستوں کوکہتے ہیں: وهو فی کلام العرب کل شئي مستدير وجمعه أفلاک. لغت عرب میں ہر گول شے کو فلک کہتے ہیں اس کی جمع افلاک ہے۔ (تفسيرکبير، 22 : 167) امام ابوالبرکات نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تک صراحت بیان فرمائی ہے : و الجمهور علی أن الفلک موج مکفوفٌ تحت السماء تجري فيه الشمس و القمر و النجوم. . . يسيرون اي يدورون جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ فلک آسمانوں کے نچیے خلا کا نام ہے جس میں سورج، چاند اور دیگر سیارے مستدیراً گردش کرتے ہیں۔ (تفسير المدارک، 3 : 78) اس لحاظ سے جتنے سیارے بھی خلا میں گردش کرتے ہیں، ہر ایک کا مدار اس کا فلک کہلاتا ہے۔اس طرح قرآن سورج،چاند اور زمین کی گردش کا تذکرہ کرتا ہے لیکن کبھی یہ نہیں کہتا کہ زمین ساکن ہے اور سورج زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔


زمین کے ساکن ہونے ایمان رکھنے والے جس آیت سے استدلال کرتے ہیں، اس پر علماء، حدیث اور تفسیر کی روشنی میں تحقیق- سوره فاطر کی آیت شمار 41 میں موجود ہے کہ؛

اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ‌ۚ وَلَٮِٕنۡ زَالَــتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖ ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا‏ 
ترجمہ: " بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کو (اپنے نظامِ قدرت کے ذریعے) اس بات سے روکے ہوئے ہے کہ وہ (اپنی اپنی جگہوں اور راستوں سے) ہٹ نہ سکیں، اور اگر وہ دونوں ہٹنے لگیں تو اس کے بعد کوئی بھی ان دونوں کو روک نہیں سکتا، بیشک وہ بڑا بُردبار، بڑا بخشنے والا ہے"

یہاں ایک نقطۂ بھی واضح رہے کہ دور حاضر کے چند ایک مفسرین نے اس آیت میں لفظ "تزولا" کا ترجمہ "جنبش" کیا ہے جس پر وہ اس بات کو ثابت کرتے ہیں کے چونکہ زمین جنبش یعنی حرکت نہیں کرتی تو اسی لیے زمین ساکن ہے- لیکن یہ ترجمہ اس آیت کے سیاق میں موجود حدیث، صحابہ اور تابعین کی تفاسیر حتیٰ کہ خود عربی زبان کے بولنے والوں کی نظر میں غلط ہے- اس آیت کے بابت امام بخاری رحمة الله‎ کی کتاب " ادب المفرد‎" حضرت جابر رضی الله عنہ کی روایت سے حدیث واحد موجود ہے جس میں انھوں نے لفظ "تزولا" کا ترجمہ "فنا ہونا" فرمایا ہے- غرض بلکل اسی طرح تفسیر ابن عبّاس میں صحابی حضرت ابن عبّاس رضی الله عنہ نے "تزولا" کا ترجمہ "بہک جانا" فرمایا ہے، تفسیر جلالین میں لفظ "تزولا" کا ترجمہ "فنا ہو جانا" کیا ہے، جبکہ خود عالم اسلام کے جیّد ترین عالم جن ہر مسلک میں بڑی عزت ہے یعنی علامہ سیوطی رحمة الله‎ نے تفسیر دور منثور میں لفظ "تزولا" کا ترجمہ "سرکنا" فرمایا ہے-

غرض حدیث واحد، صحابہ کرام رض، اور علماء کی تفاسیر کی رو سے اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جو خود ایک سائنس کا منہ بولتا شاہکار ہے- الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ع کے دور میں ہی کشش ثقل کا مظھر بیان فرما دیا تھا- تفسیر در منثور سے نقل ہے کہ ""حضرت ابو ہریرہ رض نے رسول الله ص کو ارشاد فرماتے ہوۓ سنا کہ حضرت موسیٰ ع کے ذہن میں خیال آیا کے کیا الله سوتا ہے؟ الله نے حضرت موسیٰ ع کی طرف فرشتہ بھیجا جس نے حضرت موسیٰ ع کو تین دن و رات تک جگاے رکھا اور پھر حضرت موسیٰ ع کے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک شیشی کی بوتلیں دیں اور حکم دیا کہ دونوں کی حفاظت کریں- حضرت موسیٰ ع سونے لگے تو بولتیں ملنے لگتی جسکی وجہ سے آپ ع بیدار ہو جاتے اور دونوں ہاتھ ایک دوسرے ہاتھ سے دور کر لیتے- یہاں تک کہ حضرت موسیٰ ع کو گہری نیند آ گئی اور آپ کے دونوں ہاتھ جن میں شیشے کی بولتیں تھیں وہ اپس میں ٹکرا گئیں اور ٹوٹ کر گئیں- جس پر الله تعالیٰ نے ہزرتا موسیٰ ع کے لیے ایک مثال بیان کی کہ اگر الله سوجاتا تو نہ آسمان بچتے اور نہ زمین-"" یہی اس آیت کا اصل مصداق ہے کہ الله نے زمین اور آسمان کو فنا ہونے یا زائل ہونے سے روک رکھا ہے (اس روک رکھنے کی قوّت کو سائنس نے دو طرح کی قوّت کا نام دیا ہے؛ gravitational force، centripetal force) اگر الله نے انہیں نہ روک رکھا ہوتا تو یہ زمین و آسمان فنا، یا زائل ہو جاتے غرض سائنس بھی اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر یہ (centripetal force) ختم ہو جائے تو دوسری قوّت (gravitational force) بھی ختم ہو جائے گی اور ایک نئی قوّت جنم لگی یعنی centrifugal force جس کے چلتے افلاک کے سارے اجسام بشمول زمین، سورج، چاند ستارے، شہاب ثاقب اور چھوٹے بڑے پتھر آپس میں ٹکرا کر بلکل حضرت موسیٰ ع کے ہاتھ میں دو شیشی کی بولتوں کی طرح تباہ ہو جائینگے-

سوره فاطر ہی کی آیت شمار 13 میں الله جل شانہ کا ارشاد ہے کہ

يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِىۡ النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِىۡ الَّيۡلِۙ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ۖ كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ 
ترجمہ: "وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے"

ایک اور آیت ربّانی اسی سیاق میں موجود ہے؛ بحوالہ سورة آل عمران کی شمار 190

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِىۡ الۡاَلۡبَابِۚ ۖ 
ترجمہ: "بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں "

انہی آیات کے مصداق میں مفضل بن عمر جعفی رض اور دیگر نے امام جعفر صادق ع سے بیان فرمایا کہ زمین کا خود کا گھماؤ زمین دن اور رات کے آنے اور جانے کا سبب ہے جسکا تعین وقت سے ہوتا ہے جبکہ زمین کا سورج کے گرد ایک چکّر بارہ برجوں سے گزر کر ایک سال کو مکمّل کرتا ہے- سال کے چار موسم سردی، گرمی، خزاں اور بہار اور ان کے باہمی موسم زمین کے سورج کے گرد چکّر کے دوران خود زمین کے گھماؤ میں جھکاؤ کے سبب پیدا ہوتے ہیں- ہم بطور موسمی پیج اس بات کو صاف طور پر جانتے ہیں کے مغربی برکھائی نظام، مونسون اور دنیا بھر میں ہواؤں اور درجہ حرارت اور ITCZ کا رجحان اسی امر پر منحصر ہے کہ زمین کا گھماؤ کے دورم جھکاؤ کس طرف ہے-


سوره انعام کی آیت 96 بیان کرتی ہے کہ
فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ‌ۚ وَ جَعَلَ الَّيۡلَ سَكَنًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ حُسۡبَانًا‌ ؕ ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ‏ 
ترجمہ: "وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے"

قرآن کی صداقت کے بابت حدیث میں منقول ہے کہ فھو فی کل زمان جدید وعند کل قوم غضّ الی یوم القیامۃ۔ یعنی یہ قرآن ہر دور میں جدیدیت اور ہر قوم کے لیے قیامت تک تازگی رکھتا ہے۔

سورہ بقرۃ کی آیت 29 سے ظاہر ہوتا ہے زمین پہلے خلق ہوئی، پھر بعد میں آسمان خلق ہوۓ ہیں، سائنس کا بھی یہی نظریہ ہے:

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ٭ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: "وہ وہی اللہ ہے جس نے زمین میں موجود ہر چیز کو تمہارے لیے پید ا کیا، پھر آسمان کا رخ کیا تو انہیں سات آسمانوں کی شکل میں بنا دیا۔" 

جبکہ سوره نازعات کی آیات شمار 27 تا 30 میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے آسمان بنا، پھر زمین بنی اور پھر زمین کو پیچھا دیا گیا؛ حکمت خدواندی ہے کہ؛ 
ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ‌ؕ بَنٰٮهَا.... (بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا)
رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّٮهَاۙ‏............... (اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا )
وَ اَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَاَخۡرَجَ ضُحٰٮهَا.. (اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی)
وَ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا....... ( اور اس کے بعد اس نے زمین کو بچھایا۔)

واضح رہے کہ منکر قرآن ان دو آیات کو جواز بنا کر قرآن کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کے جس میں تم کوئی تضاد نہ پاؤ گے- بیشک یہی حق ہے کیونکہ اس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں-

سوره نزاعات کی 30 ویں آیت میں لفظ " دَحٰىہَا" کی تشریحات کی گئی ہیں- یہ لفظ عرب میں عمومی طور پر کسی گول چیز کو لُرکانے عربی اصطلاح میں اس لفظ کا مطلب "بچھانا"، "بہا کر لے جانا"، "لڑکانہ (گیند کی طرح): کے ہیں، واضح رہے کہ یہ تینوں ترجمہ آپس میں مترادف ہیں- راغب اور العین کے مطابق محاورہ ہے: دحا المطر الحصی عن وجہ الارض۔ بارش زمین سے کنکریوں کو "بہا" کر لے گئی۔ جوہری نے صحاح میں کہا ہے: دحو "لڑھکنے" کو کہتے ہیں۔ راغب نے کہا ہے: دحو کے معنی ہیں ازالھا عن مقرھا۔ اپنے "ٹھکانے سے ہٹا دینے" کو کہتے ہیں۔

غرض عربی اصطلاح کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوۓ اس آیت کا ترجمہ بعض مفسرین نے یوں بھی کیا ہے زمین اور پھر آسمان بنانے کے بعد فرمایا کہ؛
وَ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا....... اور اس کے بعد اس نے زمین کو لُڑکا دیا۔ 

چونکہ لفظ دَحٰىہَا کا استمال گول چیزوں کو اپنی اصل جگہ سے ہٹا دینے یا لُڑکادینے کے معاملے میں ہی استمعال ہوتا ہے اس لیے زمین کی اپنے گھماؤ پر اس آیت سے استدلال کیا جا سکتا ہے- جبکہ دیگر مفسرین کی نظر میں اس آیت سے مراد "بچھانا" ہی ہے وہ کہتے ہیں کہ یہاں بچانے سے مراد الله کا زمین کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ چلنے لائق برابر ہو سکے-

سوره رعد کی دوسری آیت میں الله جل جلالہ فرماتا ہے کہ

اَللّٰهُ الَّذِىۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَؕ كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ‏ 
ترجمہ: "اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے (خلا میں) بلند فرمایا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو پھر (پوری کائنات پر محیط اپنے) تخت اقتدار پر (اپنی شان کے لائق) متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو نظام کا پابند بنا دیا، ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ وہی (ساری کائنات کے) پورے نظام کی تدبیر فرماتا ہے، (سب) نشانیوں (یا قوانینِ فطرت) کو تفصیلاً واضح فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کر لو"

اس آیت میں تخلیق کائنات کا عکس ظاھر کرتے ہوۓ پھر الله تعالیٰ نے فرمایا كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى یعنی "ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔" اس آیت میں واضح طور پر موجود ہے کہ تمام اجسام اپنے اپنے مدار میں حرکت کر رہے ہیں- حتہ کہ بعض نے اس آیت سے atom کے اندر موجود proton کے مدار میں چکّر لگاتے electron کو بھی تشبیہ دی ہے- بلا شبہ قرآن ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے- اہل بیت ع سے مشہور قول مروی ہے کہ ہر شہ محو حرکت ہے اور اپنے اپنے مدار میں سفر کرتی ہے-

اسی آیت کے سیاق میں ایک حدیث بھی منقول ہے جو gravitational force یعنی کشش ثقل کے ونوں کو بیان کرتی ہے؛ امیرالمومنین حضرت علی ع فر ماتے ہیں:

”ھذا النجّوم التی فی السماء مدائن مثل المدائن التی فی الارض مر بوطة کل مدینة الی عمود من نور“ 
”آسمان پر موجودہ یہ ستارے ،زمین پر موجود شہروں کے مانند شہر ہیں۔ ہر شہر دوسرے شہر کے ساتھ (ہر ستارہ دوسرے ستارے کے ساتھ)نور کے ستون کے ذریعہ جڑا ہوا ہے“

سوره نمل کی آیت شمار 88 میں ارشاد ربّانی ہے کہ؛
وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ‌ؕ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِىۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَىۡءٍ‌ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ‏ 
ترجمہ: "اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز بےشک اُسے خبر ہے تمہارے کاموں کی"

یہ آیات زمین کو ساکن ماننے والوں کے لیے ایک کھلی ہدایت ہے- یہاں پہاڑوں کا چلنا پرانی زمانے ایک معیوب سی بات تھی کے گویا ایسے کیسے ہو سکتا ہے لیکن جدید سائنس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پہاڑ چلتے ہیں اور اپنی جگہ بدلتے ہیں جسکی وجہ سے ساحل سمندر سے نیی زمین نمودار ہوتی ہے اور پہاڑ مزید اونچے ہوتے جاتا ہیں- کبھی زلزلہ پیدا ہوتا ہے تو نئے پہاڑ پیدا بھی ہوتے ہیں اور گر بھی جاتے ہیں-

الله نے پہاڑ کو بادل سے تشبیہ دے کر سمجھایا ہے؛ جیسے بادل معلوم ہوتا ہے کے رکا ہوا ہے لیکن دھیمے دھیمے چلتا رہتا ہے، بلکل اسی طرح (معمول میں) زمین کی Plates حرکت کرتی ہیں اور اسی وجہ سے پہاڑ بھی معمولی حرکت کرتے ہیں؛ اور نیے پہاڑ بھی تشکیل پاتے ہیں-

ہم دیکھتے ہیں کہ بادل تیزی سے بھی چلتا ہیں بلکل اسی طرح پہاڑ بھی تیزی سے چل کر گر جاتے ہیں، جیسے EarthQuake کی صورت میں ہوتا ہے- حتہ کہ پہاڑ تیزی سے پیدا بھی ہوتے ہیں جیسے 2013 میں Karachi کے ہی ساحل میں زلزلے کی وجہ سے سمندر میں Zalzala Koh نامی پہاڑ ظاہر ہوا جسے زلزلہ جزیرہ بھی کہتے ہیں- اس آیت سے زمین کی ذاتی گردش پر استدلال کیا جاتا ہے-

کیا سورج زمین کے گرد گھومتا ہے؟

سوره رحمان کی 5 ویں آیت میں ہے کہ؛
اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍۙ‏ 
سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں"

جبکہ سوره یٰسین کی آیت 38 میں ارشاد ہے کہ
وَالشَّمۡسُ تَجۡرِىۡ لِمُسۡتَقَرٍّ لَّهَا 
ترجمہ: "اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔"

ستارہ سورج اپنے مقررہ راستے یعنی کائنات کے وجد کے مدار میں لگاتار چل رہا ہے- اور ایک وقت ایسا آے گا کہ سورج اپنے اسی مقام پر پہنچ جائے گا جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا جیسا کے ارشاد ربّانی ہے کہ وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ‏ یعنی "اس آسمانی کائنات کی قَسم جو پھر اپنی ابتدائی حالت میں پلٹ جانے والی ہے" 

اسی طرح ایک آیت سوره التکویر، 15 میں الله نے فرمایا
فَلَآ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ 
ترجمہ: "میں پیچھے ہٹ جانے والے ستاروں کی قسم کھاتاہوں۔"

قرآن کی رو سے یہ امر ثابت ہے کہ الله نے یہ نہیں فرمایا کہ زمین ساکن ہے البتہ یہ ضرور فرمایا ہے کہ تمام افلاکی اجسام اپنے اپنے مدار میں گردسه کر رہے ہیں- جبکہ یہ بھی واضح ہے کہ قران نے زمین کے لیے لفظ دَحٰىہَا کا استمال کیا جو زمین کی کریت اور گھماؤ پر ایک قوی دلیل ہے-

حضرت علی ع نے کائنات کی تخلیق کو بیان فرماتے ہوۓ اپنے خطبہ پیدائش میں فرمایا؛

"..پھر (الله نے) ان کو ستاروں کی سج دھج اور روشن ستاروں کی چمک دمک سے آراستہ کیا اور اس میں ضوپاش چراغ اور جگمجگاتا چاند رواں کیا جو گھومنے والے فلک، چلتی پھرتی چھت اور جنبش والی لوح میں ہے.." 

یہ نظریہ غلط ہے کہ زمین کی گردش کا نظریہ ایک مسیحی شخص Galielo نے پیش کیا بلکہ اس سے پہلے معروف الجبرا، فلکیات اور حیاتیات وغیرہ کے ماہر مسلم سائنس دانوں نے دسویں صدی یعنی اسلام آنے کے 300 سال کے اندر کی زمین کی گردش کا نظریہ پیش کیا تھا- البیرونی، الطوسی، ابو سعید السجزی اور قشجی وغیرہ بڑے مسلم سائنس دان تھے جنھوں نے نہ صرف یہ ثابت کیا کے زمین گھومتی ہے بلکہ سورج کا معاینہ کرکے یہ بھی ثابت کیا کہ سورج چلنے کے ساتھ ساتھ گھومتا بھی ہے- آج کی جدید سائنس کی جدید telescope سے سورج پر موجود دھببوں سے ثابت کرتی ہے کے سورج بھی گھومتا ہے-

♦️ ♦️ #علماء_کی_راے
١- معروف مکّی مفتی ڈاکٹر الشيخ خالد المصلح کے فتاویٰ کے مطابق زمین کی گردش کا نظریہ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں-
١- ڈاکٹر ذاکر نیک نے مذکورہ آیات سے استدلال فرما کر زمین سمیت تمام اجسام فلکی کی حرکت پر واضح اور صاف راے قائم کیا ہے-
٢- مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ '' فلک کا لفظ عربی زبان میں سیاروں کے مدار(Orbit) کے لیے استعمال ہوتاہے اور اس کا مفہوم سَمَاء (آسمان )کے مفہوم سے مختلف ہے۔ یہ ارشاد کہ ''سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں '' چار حقیقتوں کی نشان دہی کرتاہے۔ایک یہ کہ نہ صرف سورج اورچاند ، بلکہ تمام تارے اور سیارے اور اجرام فلکی متحرک ہیں۔دوسرے یہ کہ ان میں سے ہر ایک کا فلک ، یعنی ہر ایک کی حرکت کا راستہ یا مدار الگ ہے،تیسرے یہ کہ افلاک تاروں کو لیے ہوئے گردش نہیں کر رہے ہیں بلکہ تارے افلاک میں گردش کر رہے ہیں اور چوتھے یہ کہ افلاک میں تاروں کی حرکت اس طرح ہورہی ہے جیسے کسی سیال چیز میں کوئی شے تیر رہی ہو۔''
٣- سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ انہوں نے فتوی دیا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گردش کرتا ہے جو زمین کو ساکن نہ مانے وہ کافر ہے۔ملحدین کا یہ اعتراض بالکل جھوٹ ہے۔ابتدا میں شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ ابتدا میں زمین کو ساکن مانتے تھے اور انہوں نے 1966ء میں اس پہ ایک مضمون لکھا تھا لیکن ان کے اس مضمون کی خود مسلمانوں نے شدید مذمت کی اور اسے قرآن و حدیث کے خلاف قرار دیا۔ان کے اس مضمون کا خود مسلمان خلاف مصری صحافیوں نے بھرپور مذاق اڑایا اور اس وقت کے سعودی حکمران شاہ فیصل رحمۃ اللہ علیہ شیخ سے اتنا غصہ ہوئے کہ ان کے اس مضمون کی سب نقلیں تباہ کرنے کا حکم دے دیا۔یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امت مسلمہ کی اکثریت اور ان کے علماء یہاں تک کہ کئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم زمین کی گردش پہ متفق ہے۔ شیخ نے خود بعد میں اپنے سعودی دوست اور مشہور سعودی خلا باز شہزادہ سلطان بن سلمان کے کہنے پہ اپنے اس خیال کو ترک کر دیا جب انہوں نے ان کو اس کی شرعی اور سائنسی وضاحت دی اور کہا کہ انہوں نے سپیس شٹل ڈسکوری میں قیام کے دوران خلا میں خود زمین کو گردش کرتے دیکھا ہے۔لہذا شیخ اپنا یہ خیال ترک کر چکے تھے اور آن ہیں ساکن زمین کے خیال کا حامی کہنا بالکل بہتان ہے۔خود شیخ نے اس اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے کفر کا فتوی اس کے خلاف دیا جو سورج کو ساکن کہتے ہیں کیونکہ سورج نہ قرآن کے مطابق ساکن ہے اور نہ سائنس کے مطابق اور سورج کو ساکن کہنا قرآن کی واضح آیات کا انکار اور کفر ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی شیخ نے زمین کی گردش کو تسلیم کیا اور زمین کے ساکن ہونے کا اپنا خیال ترک کر دیا۔
٤- امام علی ع اور دیگر آئمہ اہل بیت ع کے نزدیک زمین سمیت تمام جسموں کی گردش کا نظریہ واضح طور پر پایا جاتا ہے- لہذا فقہ اہل بیت ع میں اس امر پر کوئی بحث نہیں-
٥- تیرھویں صدی کے شیعہ عالم دین اور معروف سائنس دان trigonometry کے بانی ناصر الدین الطوسی نے بھی زمین کی گردش کو سائنس کے نظریہ سے ثابت کیا-

اکثر لوگ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر زمین گھومتی ہے تو ہوا میں اڑتا ہوا پرندہ یا جہاز یا گیند زمین پر اسی جگہ آ کر کیسے گرتا ہے بلکہ اسے تو دور گرنا چاہیے- دراصل یہ بے تکے سوالات طبیعیات physics سے نا واقفیت اور کم علمی کا نتیجہ ہے- inertia کا قانون اسے سادگی اور صفائی سے بیان کرتا ہے- اس کی مثال سادہ ہے کہ اگر ایک ریل گاری چل رہی ہے تو اس میں موجود مسافر کیسے چل رہے ہیں؟ جبکہ مسافر تو حرکت میں نہیں ہیں- زمین کی گردش کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ موجود تمام اشیا بشمول atmosphere گردش کر رہے ہیں جن سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹہرا ہوا ہے- یہ جو موسمی پیشنگویاں، ہوا میں missile داغے جاتے ہیں وہ انہی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوۓ سر انجام دے جاتے ہیں-



اگر نقاد کی بات مان لی جائے کہ زمین گردش نہیں کرتی تو انھیں سب سے پہلے ہمارے چند سوالوں کا جواب دینا ہوگا؛


اول جو آپ ڈش اینٹینا پر ٹی وی یا دوسری اشیا دیکھتے ہیں وہ خلا میں زمین کے ساتھ گردش کرتی ہوئیں سیٹلائٹ کے ذریعے ہی کرتے ہیں؛ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آپ ایسا ہرگز نہیں کر پاتے-

دوئم آپ جو روزانہ آسمان سے بادلوں اور تھنڈرسٹورم کو سیٹلائٹ سے دیکھتے ہیں، زمین حرکت نا کرے تو یہ کیسے ممکن ہے-

سوم آپ جو دنیا میں میزائل کے کامیاب تجربے کا اعلان کرتے ہیں، اگر زمین کی گردش کو نظر انداز کردیا جائے تو کوئی میزائل اپنی جگہ پی نا پہنچ سکے گا-

چہارم آپ جو پائلٹ بن کر فضا میں مسافر اور جنگی طیارے اڑاتے ہیں، اگر زمین کی گردش کو نظر انداز کردیں تو ایسا ہرگز نہیں کر سکیںگے-

پنجم آپ جو دن اور رات کو آتے جاتے دیکھتے ہیں اور موسموں میں تبدیلی دیکھتے ہیں، اگر زمین کی گردش نا ہو تو ایک طرف صرف رات رہے اور ایک طرف صرف دن اور کبھی موسم تبدیل نا ہو-

ششم آپ خلا میں بھیجنے والے خلائی سفر کے مشن اور ان سے موصول ہونے والی معلومات کے بھی منکر ہو جائیں-



الله نے سوره  محمد   ص کی 24 ویں آیت میں فرمایا؛ 
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
" تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں"

Post a comment

0 Comments